Daily Spiritual Quotes

روحانیت • تصوف • قرآن

اللہ دلوں کے حال خوب جانتا ہے
صبر کرو، بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے
دل کا سکون صرف ذکرِ الٰہی میں ہے
جو اللہ پر بھروسہ کرے، وہی کافی ہے
مشکل کے بعد آسانی ضرور ہے
اللہ کی رحمت سے کبھی نا امید نہ ہو
نیت صاف ہو تو راستے خود بنتے ہیں
اللہ ہر چیز پر قادر ہے
خاموشی میں بھی اللہ سن رہا ہوتا ہے
جو شکر کرتا ہے، اللہ اسے اور دیتا ہے

کیا یزید جنتی ہے ؟ کیا یزید جنتی تھا ؟

کیا یزید جنتی ہے؟

 یزید  آج  بھی  بنتے  ہیں  کوشش  سے 

حسین بنتا نہیں بلکہ خود خدا بناتا ہے

واقعۂ کربلا اسلامی تاریخ کا ایک ایسا باب ہے جسے امتِ مسلمہ آج بھی درد اور احترام کے ساتھ یاد کرتی ہے۔ سن 61 ہجری میں حضرت امام حسین اور ان کے رفقاء کی شہادت نے حق و باطل کی کشمکش کو ہمیشہ کے لیے تاریخ کا حصہ بنا دیا۔ اس واقعے کے بعد یزید بن معاویہ کی شخصیت پر مختلف ادوار میں بحث ہوتی رہی ہے۔

کئی معروف علماء، محدثین اور مورخین نے اپنی کتابوں میں یزید کے کردار پر تنقید کی ہے۔ ان کے نزدیک امام حسین کی شہادت، اہلِ بیت کے ساتھ پیش آنے والے حالات اور بعد کے واقعات ایسے امور ہیں جن کی وجہ سے یزید کو بری الذمہ قرار دینا مشکل ہے۔ بعض اکابر علماء نے اسے فاسق و ظالم کہا، جبکہ بعض نے اس کے بارے میں خاموشی اختیار کرنا مناسب سمجھا۔

عجب تماشہ ہوا اسلام کی تقدیر کے ساتھ 

کٹا  سر  حسین  کا    نعرہ  تکبیر   کے ساتھ

تاریخی روایات میں یہ بھی ذکر ملتا ہے کہ یزید کے دورِ حکومت میں مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ میں ایسے افسوسناک واقعات پیش آئے جنہوں نے مسلمانوں کے دلوں کو رنج پہنچایا۔ یہی وجہ ہے کہ امت کے ایک بڑے طبقے نے اس کے طرزِ حکومت کو پسند نہیں کیا۔

دوسری جانب کچھ لوگوں نے بعض روایات کی بنیاد پر یزید کے حق میں نرم موقف اختیار کیا، لیکن جمہور علماء نے اس بات پر زور دیا کہ واقعۂ کربلا ایک عظیم سانحہ تھا اور حضرت امام حسین حق اور انصاف کی خاطر میدان میں نکلے تھے۔ ان کی قربانی امت کے لیے صبر، استقامت اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا لازوال پیغام ہے۔

اہلِ سنت کے نزدیک اہلِ بیتِ رسول ﷺ سے محبت ایمان کا حصہ ہے۔ حضرت امام حسین نواسۂ رسول ﷺ اور جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں۔ ان کی عظیم قربانی کو یاد کرنا اور اس سے سبق حاصل کرنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔

نکل کر خانقاہوں سے ادا کرو رسم شبیری 

فقر  خانقاہی  ہے  فقط  اندوہ  و  دلگیری

اس مسئلے میں اگرچہ تاریخی اختلافات موجود ہیں، لیکن تمام مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ ادب، احترام اور تحقیق کے ساتھ گفتگو کریں۔ اصل مقصد شخصیات پر بحث سے زیادہ واقعۂ کربلا کے پیغام کو سمجھنا ہے، جو ہمیں حق، عدل، صبر اور دین کی خاطر قربانی دینے کا درس دیتا ہے۔ واقعۂ کربلا ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ باطل کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، حق کی آواز ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔ حضرت امام حسینؓ اور ان کے جانثار ساتھیوں کی قربانی قیامت تک مسلمانوں کے لیے ہدایت اور حوصلے کا سرچشمہ رہے گی۔


0

No comments:

Post a Comment

اللہ دلوں کے حال خوب جانتا ہے
صبر کرو، بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے
دل کا سکون صرف ذکرِ الٰہی میں ہے
جو اللہ پر بھروسہ کرے، وہی کافی ہے
مشکل کے بعد آسانی ضرور ہے
اللہ کی رحمت سے کبھی نا امید نہ ہو
نیت صاف ہو تو راستے خود بنتے ہیں
اللہ ہر چیز پر قادر ہے
خاموشی میں بھی اللہ سن رہا ہوتا ہے
جو شکر کرتا ہے، اللہ اسے اور دیتا ہے