شہادت مولا عباس علیہ السلام تاریخ سے مقتل مقرم
فرمایا : انت صاحب لوانی " آپ تو میرے علم دار ہیں ۔
حضرت عباس علیم نے جواب دیا: ان منافقین کو دیکھنے سے مجھے سینے میں گھٹن محسوس ہوتی ہے اس لیے میں ان سے اپنے شہیدوں کے خون کا بدلہ لینا چاہتا ہوں ۔ تو حضرت امام حسین نے جناب عباس کو حکم دیا کہ وہ ان اشقیاء سے صرف بچوں کے لیے پانی طلب کریں۔ پھر حضرت عباس علی قوم اشقیاء کی جانب بڑھے اور انھیں وعظ ونصیحت کی اور خدائے جہار کے غضب سے
ڈرایا لیکن ان پر کوئی اثر نہ ہوا۔ پھر حضرت عباس نے بلند آواز میں فرمایا
اے عمر بن سعدا! یہ حسین نواسہ رسول خدا ہیں، تم نے ان کے اصحاب اور اہل بیت کو شہید کر دیا ہے جب کہ آپ کے اہل وعیال اور اولاد پیاسے ہیں۔ پس تم انھیں پانی سے سیراب کرو کیوں کہ ان کے دل شدت پیاس کی وجہ سے جل چکے ہیں ۔ حضرت امام حسین یہ بھی کہتے ہیں کہ تم مجھے روم یا ہندوستان کی طرف جانے دو تو میں تمھارے لیے حجاز اور عراق کا علاقہ خالی چھوڑ دیتا ہوں۔
حضرت عباس کے کلام کا اس قوم اشقیاء کے دلوں پر اتنا اثر ہوا کہ ان میں سے بعض اشقیاء رونے لگے لیکن شمر ( ملعون ) اونچی آواز میں چلا کر بولا : اے ابوتراب کے بیٹے ! اگر روئے زمین پر ہر طرف پانی ہی پانی ہو اور یہ تمام پانی ہمارے قبضے میں ہو تو بھی ہم تم لوگوں کو اس وقت تک اس سے ایک بوند بھی پینے کو نہ دیں گے جب تک تم یزید کی بیعت میں نہ آجاؤ۔
حضرت عباس علیکا نے اپنے بھائی مولا حسین کی بارگاہ میں واپس آ کر انھیں اس بات کی خبر دی کہ وہ اشقیاء پانی نہیں دیتے۔ حضرت عباس نے سنا کہ خیام حسینی میں معصوم بچے پیاس کی شدت کی وجہ سے چیخ و پکار اور گریہ و زاری کر رہے ہیں۔ تو آپ اس حالت کو زیادہ دیر برداشت نہ کر سکے اور ان کی ہاشمی حمیت و غیرت جوش کھانے لگی۔
پھر حضرت عباس اپنے رہوار پر سوار ہوئے۔ آپ نے پانی کی ایک مشک اپنے ہمراہ لی اور فرات کی جانب بڑھنے لگے لیکن بہت جلد ہی چار ہزار یزیدی فوج نے آپ کا محاصرہ کر کے آپ پر تیر برسانے شروع کر دیے لیکن ان کی یہ کثرت آپ کو اپنے ارادے سے باز نہ رکھ سکی اور آپ نے تھا اس لشکر کو مار بھگایا۔ آپ کےسر پر لم لہرارہا تھا اور وم اشقیاء کو ہی ہے جو نہ ہوا کہ حضرت عباس ان کے بہادروں کو موت کے گھاٹ اتار رہے ہیں یا اسی مصطفی حیدر گزارشیر خدا میدان میں دھاڑ رہے ہیں۔ کوئی یزیدی آپ کے سامنے نہ ٹھہر سکا اور آپ مسلمئن اور پرسکون حالت میں دریائے فرات پر جا کر اتر گئے جب کہ آپ کو اس یزیدی لشکر کی کوئی پرواہ نہ تھی۔ جب آپ نے فرات کے پانی سے اپنے چلو بھراتا کہ اپنی پیاس بجھا سکیں تو آپ کو حضرت امام حسین اور ان کے پیاسے ساتھیوں اور بچوں کی پیاس یاد آگئی اور آپ نے پانی دریا میں پھینک دیا اور کہا:
يا نفس من بعد الحسين هونى و بعده لا كنت ان تكونى
هذا الحسين وارد المنون و تشر بين بارد المعين
تالله ما هذا فعال ديني
اے نفس ! حضرت امام حسین کے بعد تیرے لیے ذلت و رسوائی کا مقام ہے اور حضرت امام حسین کے بعد مجھے زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں۔ اس وقت حضرت امام حسین موت کے درمیان گھرے ہوئے ہیں اور کوٹھنڈا پانی پی کر اپنی پیاس بجھانا چاہتا ہے۔ خدا کی قسم! میرا دین اور ایمان مجھے ہرگز اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ میرے امام و آقا اور ان کے اہل وعیال پیاسے ہوں اور میں پانی پی لوں۔
پھر حضرت عباس علی شام نے مشک کو پانی سے بھرا اور اپنے رہوار پر سوار ہو کر خیام حسین کی طرف تیزی سے روانہ ہوئے۔ عمر سعد کے لشکر نے آپ کا راستہ روکنا چاہا تو آپ نے ان پر یوں بہادری سے اپنی تلوار کے وار کیے کہ اکثر یزیدیوں کو فی النار کر دیا اور وہ آپ کے راستہ سے ہٹتے
چلے گئے۔
جب موت میری طرف رخ کر کے مجھے پکارتی ہے تو مجھے موت کا کوئی ڈر نہیں ہوتا یہاں تک کہ میری لاش بھی بہادر جنگجو لوگوں کے کشتوں میں چھپ جائے۔ میری جان پاک فرزند مصطفی پر قربان ہو جائے۔ بے شک میں عباس ہوں اور اس مشک کو خیام حسینی تک ضرور لے جاؤں گا اور جس دن حق و باطل کی آپس میں مڈبھیڑ ہو تو میں باطل کے فتنوں، شر انگیزیوں اور موت سے نہیں گھبراتا"۔
حضرت عباس عالی پانی کی مشک لیے میموں کی جانب تیزی سے بڑھ رہے تھے کہ زید نار قاد امینی نے کھجور کے درخت کے پیچھے چھپ کر دار کیا اور حکیم بن طفیل السنبسی نے اس لعین کی مدد کی اور اس نے آپ کے دائیں بازو پر وار کیا۔
والله ان قطعتم يميني
الى أحامي ابداً عن ديني
وعن امام صادق اليقين نجل النبي الطاهر الامين خدا کی قسم ! اگر تم نے میرا دایاں باز و قلم کر دیا ہے تو پھر بھی میں ہمیشہ اپنے
دین اور ایمان کی حفاظت و حمایت کرتا رہوں گا۔ اور میں ہمیشہ اس امام کی حمایت کرتا رہوں گا جو صادق اور یقین محکم کے مالک ہیں اور وہ طاہر و امین
نما کے بیٹے ہیں"۔
آپ کو اپنے دائیں بازو کے کٹنے کی کوئی پروا نہ تھی بلکہ آپ کا صرف یہ مقصد تھا کہ کسی طرح حضرت امام حسین کے معصوم بچوں اور آپ کے اہل وعیال تک پانی پہنچا دیا جائے لیکن حکیم بن طفیل کھجور کے ایک درخت کے پیچھے چھپ گیا۔ جب حضرت عباس اس معین کے پاس سے گزرے تو اس نے آپ کے بائیں بازو پر وار کیا اور آپ کا بایاں باز و قلم ہو گیا۔ اس کے بعد آپ پر ہر طرف سے یزیدی فوجیں ٹوٹ پڑیں، آپ پر بارش کی طرح تیر برسنے لگے اور ایک تیر مشک میں لگا جس سے مشک کا سارا پانی بہہ گیا۔ پھر مزید ایک تیر آپ کے سینہ میں پیوست ہو گیا۔ (۲) اور ایک لعین نے آپ کے سر پر گر ز مارا جس سے آپ کا سر شگاف ہو گیا۔
وهوى بجنب العلقمي فليته
للشاربين به يداف العلقم آپ (حضرت عباس) نہر علقمہ کے پاس گرے اور شاید دریا کے کنارے بسنے والے افراد نے آپ کی شہادت کی تلفی کا کڑوا گھونٹ نگل لیا ہو۔
اس کے بعد حضرت عباس زمین پر گر پڑے اور حضرت امام حسین کو الوداعی سلام کرتے
ہوئے پکارا :
عليك منى السلام يا ابا عبد الله
با عبداللہ امیرا آخری سلام قبول کیجیئے۔
حضرت امام حسین فوراً آپ کے پاس تشریف لے آئے ۔
اے کاش! ہم یہ جان سکتے کہ حضرت امام حسین حضرت عباس کے پاس کسی حالت میں تشریف لے گئے۔ کیا وہ اس عظیم مصیبت پر اپنی بھی ہوئی زندگی کے ساتھ آئے یا بھائی چارے کی کشش ایک بھائی کو اپنے محبوب بھائی کی طرف کھینچ کر لے گئی ؟ہاں ! اس وقت حضرت امام حسین نے اپنی آنکھوں سے یہ مشاہدہ کیا کہ ایک مقدس ہستی کسی طرح مٹی پر خاک و خون میں غلطاں ہو کر قربان ہورہی تھی اور تیروں نے انھیں کس طرحڈھانپ رکھا تھا۔ اب حضرت عباس نہ تو کسی خواہش کا اظہار کر رہے تھے اور نہ ہی کوئی رجز پڑھا جا رہا تھا اور نہ ہی کوئی حملہ دشمن کو خوفزدہ کر رہا تھا۔ آپ کی آنکھ کچھ بھی نہیں دیکھ رہی تھی اور زمین تھے اور پاشیده ها باقی شهدا اور خاص آپ کے کرے۔ پر آپ کے سر سے خون بہتا جا رہا تھا کیا یہ درست ہے کہ ان تمام مشکلات و مصائب کو دیکھنے کے بعد بھی حضرت امام حسین بنانے اور وہ اپنے قدموں پر کھڑے ہو سکتے تھے؟ حضرت ابوالفضل العباس کی شہادت کے بہ حضرت امام حسین لکڑی کے اس ڈھانچے کے مانند رہ گئے تھے جو زندگی کے لوازمات سے خالی وہ حضرت امام حسین نے اپنی اس حالت کو اس فرمان کے ذریعے بیان کیا:
الآن انكسر ظهری و قلت حيلتي .
اب میری کمر ٹوٹ گئی اور میری طاقت کم پڑ گئی
وبان الانكسار في جبينه
فاندكت الجبال من حنينه
وكيف لا وهو جمال بهجته وفي محياه سرور مهجته
كافل أهله وساقى صبيته وحامل اللوا بعالى همته . اس وقت آپ (حضرت امام حسین) کی پیشانی سے انکساری ظاہر ہورہی تھی اور آپ کے دکھ درد سے پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جاتے ۔ ایسا کیوں نہ ہوتا جبکہ حضرت عباس حضرت امام حسین کی شادابی اور ضرور کا جمال تھے اور حضرت عباس کے زندہ رہنے میں ہی آپ کے دل کا سرور تھا۔ اے امام حسین کے کنبے کی نگہداشت کرنے والے اور ان کے بچوں کو سیراب کرنے والے اور اپنے بلند عزم و ہمت کے ساتھ اُن کے پرچم کو اٹھانے والے"۔
حضرت امام حسین علی انا نے حضرت عباس مدینہ کو وہیں پر چھوڑ دیا جس زمین پر وہ گرے نے اور انھیں وہاں سے کسی دوسری جگہ پر نقل نہ کیا کیونکہ امام کے اس فعل میں بھی ایک راز پاشیدہ تھا اور آنے والے وقت نے اس راز سے پردہ اُٹھایا کہ حضرت عباس کو اس لیے کربلا کے انی شہداء سے الگ مقام پر دفن کیا گیا تا کہ لوگ آپ کے روضتہ مقدس پر اپنی حاجات لے کر آئیں اور خاص طور پر آپ کی زیارت کو جائیں اور لوگ زمین کے اس ٹکڑے کی طرف بڑھیں جہاں پر آپ کے روضہ اقدس کا گنہر ہے کہ جس کی بلندی آسمان کو چھوتی ہے تا کہ وہ لوگ اس گنبد کے بیچے کھڑے ہو کر اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا قرب حاصل کریں۔ پھر تمام مستورات رونے لگیں اور ان کے ساتھ حضرت امام حسین نے بھی گ
ریہ کیا اور بارے عباس ! ہائے تم نے ہمیں اپنے بعد مصیبتوں کے لیے چھوڑ دیا

No comments:
Post a Comment