زندگی سے مجھے گلہ ہی کیا ہے
زندگی سے مجھے گلہ ہی کیا ہے
تیرے بغیر مجھے ملا ہی کیا ہے
آگ جو لگی ہے دل کے....... اندر
تم نہیں جلے پھر جلا ہی کیا ہے
ایک شخص جو مرجھا گیا تھا
وہ کھلا نہیں تو کھلا ہی کیا ہے
ہجر کی رات بہت کڑی تھی یارو
رات تو ڈھل گئی دن ڈھلا ہی کیا ہے
رفو گر نے جلدی کی رفو گری میں
غم چھوڑا ہےاسکا پھر سلا ہی کیا ہے
کھاتے ہیں عشق میں دھوکا سب
رحمتؔ ، یہ محبت تو بلا ہی کیا ہے
رحمت اللہ فقیر
Nice
ReplyDelete