Daily Spiritual Quote

روحانیت • تصوف • قرآن

اللہ دلوں کے حال خوب جانتا ہے
صبر کرو، بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے
دل کا سکون صرف ذکرِ الٰہی میں ہے
جو اللہ پر بھروسہ کرے، وہی کافی ہے
مشکل کے بعد آسانی ضرور ہے
اللہ کی رحمت سے کبھی نا امید نہ ہو
نیت صاف ہو تو راستے خود بنتے ہیں
اللہ ہر چیز پر قادر ہے
خاموشی میں بھی اللہ سن رہا ہوتا ہے
جو شکر کرتا ہے، اللہ اسے اور دیتا ہے

شکوہ ڈاکٹر محمد علامہ اقبال شاعری


کیوں زیاں کار بنوں ، سود فراموش رہوں 

فکر فردا نہ کروں ، محو غم دوش رہوں 


نالے بلبل کے سنوں اور ہمہ تن گوش رہوں

ہمنوا میں بھی کوئی گل ہوں کہ خاموش رہوں


 جرات آموز مری تاب سخن ہے مجھ کو 

شکوہ اللہ سے ، خاکم بدہن ، ہے مجھ کو


ہے بجا شیوہ تسلیم میں مشہور ہیں ہم

 قصہ درد سناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہم


 ساز خاموش ہیں ، فریاد سے معمور ہیں ہم

 نالہ آتا ہے اگر لب پہ تو معذور ہیں ہم


 اے خدا! شکوہ ارباب وفا بھی سن لے 

خوگر حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لے


تھی تو موجود ازل سے ہی تری ذات قدیم

 پھول تھا زیب چمن ، پر نہ پریشاں تھی شمیم 


شرط انصاف ہے اے صاحب الطاف عمیم 

ہوئے گل پھیلتی کس طرح جو ہوتی نہ نسیم


 ہم کو جمعیت خاطر پر پریشانی تھی 

ور نہ امت ترے محبوب ﷺ کی دیوانی تھی


ہم سے پہلے تھا عجب تیرے جہاں کا منظر

 کہیں مسجود تھے پتھر ، کہیں معبود شجر 


خوگر پیکر محسوس تھی انساں کی نظر

 مانتا پھر کوئی ان دیکھے خدا کو کیونکر


 تجھ کو معلوم ہے لیتا تھا کوئی نام ترا 

قوت بازوئے مسلم نے کیا کام ترا


بس رہے تھے یہیں سلجوق بھی ، تورانی بھی

 اہل چین چین میں ، ایران میں ساسانی بھی


 اسی معمور میں آباد تھے یونانی بھی

 اس دنیا میں یہودی بھی تھے ، نصرانی بھی 


پر تیرے نام پہ تلوار اٹھائی کس نے؟ 

بات جو بگڑی ہوئی تھی ، وہ بنائی کس نے؟


تھے ہمیں ایک ترے معرکہ آراؤں میں 

خشکیوں میں کبھی لڑتے ، کبھی دریاؤں 


میں دیں اذانیں کبھی یورپ کے کلیساؤں

 میں کبھی افریقہ کے تپتے ہوئے صحراؤں


 میں شان آنکھوں میں نہ جچتی تھی جہانداروں کی 

کلمہ پڑھتے تھے ہم چھاؤں میں تلواروں کی


ہم جو جیتے تھے تو جنگوں کی مصیبت کے لیے 

اور مرتے تھے ترے نام کی عظمت کے لیے


تھی نہ سکے نہ کچھ تیغ زنی اپنی حکومت کے لیے 

سر بکف پھرتے تھے کیا زہر میں دولت کے لیے 


قوم اپنی جو زر و مال جہاں پر مرتی

 بت فروشی کے عوض بت شکنی کیوں کرتی


ٹل نہ سکتے تھے اگر جنگ میں اڑ جاتے تھے 

پاؤں شیروں کے بھی میداں سے اُکھڑ جاتے تھے


 تجھ سے سرکش ہوا کوئی تو بگڑ جاتے تھے

تیغ کیا چیز ہے ہم توپ سے لڑ جاتے تھے


 نقش توحید کا ہر دل پہ بٹھایا ہم نے

 زیر خنجر بھی یہ پیغام سنایا ہم نے


تو ہی کہہ دے کہ اُکھاڑا در خیبر کس نے 

شہر قیصر کا جو تھا اس کو کیا سرکس نے


 توڑے مخلوق خداوندوں کے پیکر کس نے

 کاٹ کر رکھ دیئے کفار کے لشکر کس نے


 کس نے ٹھنڈا کیا آتش کدہ ایران کو کس نے

 پھر زندہ کیا تذکرہ یزداں کو


کون سی قوم فقط تیری طلب گار ہوئی

 اور تیرے لیے زحمت کش پیکار ہوئی


 کس کی شمشیر جہانگیر ، جہاندار ہوئی

 کس کی تکبیر سے دنیا تری بیدار ہوئی


 کس کی ہیبت سے صنم سہمے ہوئے رہتے تھے

 منہ کے بل گر کے ھو اللہ احد کہتے تھے


آ گیا عین لڑائی میں اگر وقت نماز

 قبلہ رو ہو کے زمیں بوس ہوئی قوم حجاز


 ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز 

نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز 


بنده و صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئے 

تیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے


محفل کون و مکاں میں سحر و شام پھرے

 مے توحید کو لے کر صفت جام پھرے


 کوہ میں دشت میں لے کر ترا پیغام پھرے

 اور معلوم ہے تجھ کو ، کبھی ناکام پھرے 


دشت تو دشت ہے دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے 

بحر ظلمات میں دراڑ دیئے گھوڑے ہم نے


صفحہ دہر سے باطل کو مٹایا ہم نے

 نوع انساں کو غلامی سے چھڑایا ہم نے


 تیرے کعبے کو جبینوں سے بسایا ہم نے 

تیرے قرآن کو سینوں سے لگایا ہم نے


 پھر بھی ہم سے یہ گلہ ہے کہ وفادار نہیں

 ہم وفادار نہیں ، تو بھی تو دلدار نہیں


امتیں اور بھی ہیں ان میں گنہگار بھی ہیں

 عجز والے بھی ہیں ، مست مئے پندار بھی 


ہیں ان میں کامل بھی ہیں غافل بھی ہیں ہشیار بھی

 ہیں سینکڑوں ہیں کہ ترے نام سے بیزار بھی


 ہیں رحمتیں ہیں تری اغیار کے کاشانوں پر

 برق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پر


بت صنم خانوں میں کہتے ہیں ، مسلمان گئے ہے 

خوشی ان کو کہ کعبے کے نگہبان گئے 


منزل دہر سے اونٹوں کے حدی خوان گئے

 اپنی بغلوں میں دبائے ہوئے قرآن گئے 


ے خندہ زن کفر ہے ، احساس تجھے ہے کہ نہیں؟ 

اپنی توحید کا کچھ پاس تجھے ہے کہ نہیں؟


یہ شکایت نہیں ، ہیں ان کے خزانے معمور

 نہیں محفل میں جنہیں بات بھی کرنے کا شعور 


قہر تو یہ ہے کہ کافر کو ملیں حور و قصور

 اور بے چارے مسلمان کو فقط وعدہ حضور 


اب وہ الطاف نہیں ہم پر عنایات نہیں

 بات یہ کیا ہے کہ پہلی کی مدارات نہیں


کیوں مسلمانوں میں سے دولت دنیا نایاب

 تیری قدرت تو ہے وہ جس کی نہ حد ہے نہ حساب


تو جو چاہے تو اٹھے سینۂ صحرا سے حباب

 رہرو دشت ہو سیلی زده موج سراب


 طعن اغیار ہے ، رسوائی ہے ، ناداری ہے 

کیا ترے نام پہ مرنے کا عوض خواری ہے؟


بنی اغیار کی اب چاہنے والی دنیا 

رہ گئی اپنے لیے ایک خیالی دنیا


 ہم تو رخصت ہوئے اوروں نے سنبھالی دنیا

پھر نہ کہنا ہوئی توحید سے خالی دنیا 


ہم تو جیتے ہیں کہ دنیا میں تیرا نام رہے 

کہیں ممکن ہے کہ ساقی نہ رہے ، جام رہے


تیری محفل بھی گئی ، چاہنے والے بھی گئے

 شب کی آہیں بھی گئیں ، صبح کے نالے بھی گئے


 دل تجھے دے بھی گئے ، اپنا صلہ لے بھی گئے 

آ کے بیٹھے بھی نہ تھے اور نکالے بھی گئے


 آئے عشاق ، گئے وعدہ فردا لے کر

 اب ہمیں ڈھونڈ چراغ رخ زیبا لے کر


درد لیلی بھی وہی ، قیس کا پہلو بھی وہی

 نجد کے دشت و جبل میں رم آہو بھی وہی 


عشق کا دل بھی وہی حُسن کا جادو بھی وہی 

امت احمد ﷺرسل بھی وہی تو بھی وہی


 پھر یہ آزردگی غیر سبب کیا معنی؟ 

اپنے شیداؤں پہ یہ چشم غضب کیا معنی؟


تجھ کو چھوڑا کہ رسول ﷺ ہم عربی کو چھوڑا

 بت گری پیشہ کیا ، بت شکنی کو چھوڑا 


عشق کو عشق کی آشفتہ سری کو چھوڑا 

رسم سلمان و اویس قرنی کو چھوڑا 


آگ تکبیر کی سینوں میں دبی رکھتے ہیں

 زندگی مثل بلال حبشی رکھتے ہیں


عشق کی خیر وہ پہلی سی ادا بھی نہ سہی

 جادہ پیمائی تسلیم و رضا بھی نہ سہی 


مضطرب دل صفت قبلہ نما بھی نہ سہی

 اور پابندی آئین وفا بھی نہ سہی 


کبھی ہم سے کبھی غیروں سے شناسائی ہے

 بات کہنے کی نہیں تو بھی تو ہر جائی ہے


سر خاراں پہ کیا دین کو کامل تو نے

 اک اشارے میں ہزاروں کے لیے دل تو نے 


آتش اندوز کیا عشق کا حاصل تو نے 

پھونک دی گرمی رخسار سے محفل تو نے 


آج کیوں سینے ہمارے شرر آباد نہیں

 ہم وہی سوختہ ساماں ہیں ، تجھے یاد نہیں


وادی نجد میں وہ شور سلاسل نہ رہا

 قیس دیوانه نظاره محمل نہ رہا 


حوصلے وہ نہ رہے ، ہم نہ رہے ، دل نہ رہا 

گھر یہ اجڑا ہے کہ تو رونق محفل نہ رہا 


اے خوش آں روز کہ آئی و بصد ناز آئی بے 

حجابانہ سوئے محفل ما باز آئی!


بادہ کش غیر ہیں گلشن میں لپ جو بیٹھے

 سنتے ہیں جام بکف نغمہ کو کو بیٹھے


 دور ہنگامہ گلزار سے یک سو بیٹھے

 تیرے دیوانے بھی ہیں منتظر ہو بیٹھے


 اپنے پروانوں کو پھر ذوق خود افروزی دے

 برق دیرینہ کو فرمان جگر سوزی دے


قوم آوارہ عناں تاب ہے پھر سوئے حجاز

 لے اڑا بلبل بے پر کو مذاق پرواز 


مضطرب باغ کے ہر غنچے میں ہے بوئے نیاز

 تو ذرا چھیڑ تو دے تشنہ مضراب ہے ساز 


نغمے بیتاب ہیں تاروں سے نکلنے کے لیے

 طور مضطر ہے اسی آگ میں جلنے کے لیے


مشکلیں امت مرحوم کی آساں کر دے 

مور بے مایہ کو ہمدوش سلیماں کر دے


 جنس نایاب محبت کو پھر ارزاں کر دے

 ہند کے دیر نشینوں کو مسلماں کر دے


 جوئے خون می چکد از حسرت دیرینه ما 

می تپد ناله به نشتر کده سینه ما


بوئے گل لے گئی بیرون چمن ، راز چمن

 کیا قیامت ہے کہ خود پھول میں غماز چمن 


عہد گل ختم ہوا ، ٹوٹ گیا ساز چمن

 اڑ گئے ڈالیوں سے زمزمہ پرواز چمن


 ایک بلبل ہے کہ ہے محو ترنم اب تک

 اس کے سینے میں ہے نغموں کا تلاطم اب تک


قمریاں شاخ صنوبر سے گریزاں بھی ہوئیں

 پتیاں پھول کی جھڑ جھڑ کے پریشاں بھی ہوئیں


 وہ پرانی روشیں باغ کی ویراں بھی ہوئیں

 ڈالیاں پیرہن برگ سے عریاں بھی ہوئیں


 قید موسم سے طبیعت رہی آزاد اس کی

 کاش گلشن میں سمجھتا کوئی فریاد اس کی


لطف مرنے میں ہے باقی نہ مزا جینے میں 

کچھ مزا ہے تو یہی خون جگر پینے میں


 کتنے بے تاب ہیں جو ہر مرے آئینے میں

 کس قدر جلوے تڑپتے ہیں مرے سینے میں


 اس گلستاں میں مگر دیکھنے والے ہی نہیں

 داغ

 دو سینے میں رکھتے ہوں وہ لالے ہی نہیں


چاک اس بلبل تنہا کی نوا سے دل ہوں 

جاگنے والے اسی بانگ درا سے دل ہوں


 یعنی پھر زندہ نئے عہد وفا سے دل ہوں

 پھر اسی بادۂ دیرینہ کے پیاسے دل ہوں 


عجمی خم ہے تو کیا ہے تو حجازی ہے مری

 نغمہ ہندی ہے تو کیا ، لے تو حجازی ہے مری



ؒ علامہ محمد اقبال 



React
Join Discussion

No comments:

Post a Comment

Helper

السلام علیکم! Quran, Hadith, Sufi, Urdu Quotes, English Quotes, search یا contact کے بارے میں پوچھیں۔