یاد آؤ گے یاد کریں گے جانے کیا کچھ ٹھیری تھی
یاد آؤ گے یاد کریں گے جانے کیا کچھ ٹھیری تھی
ہجر کے غم آباد کریں گے، جانے کیا کچھ ٹھیری تھی
دھیان لگا کر بیٹھیں گے ہم لوگوں سے فرصت پاکر
وعدوں کی امداد کریں گے جانے کیا کچھ ٹھیری تھی
جو لمحہ بھی بیر رکھے گا ، دل لمحوں کے رشتوں سے
وہ لمحہ برباد کریں گے، جانے کیا کچھ ٹھیری تھی
تم ٹھکرا دو گی ہر خسرو کو رشک شیریں بن کر
ہم کار فرہاد کریں گے جانے کیا کچھ ٹھیری تھی
جب ہونٹوں پر لگ جائے گا پہرا تو ہم بھی آخر
سینے میں فریاد کریں گے، جانے کیا کچھ ٹھیری تھی
ہجر سخن جب کر نہ سکیں گے، شام ملال مہجوری
سانسوں کو برباد کریں گے جانے کیا کچھ ٹھیری تھی
جب تنہائی میں تنہائی ، پا نہ سکیں گے چار طرف
اس کو ہم ایجاد کریں گے، جانے کیا کچھ ٹھیری تھی
خون ہی تھوکیں گے ہم جانم جانم جاناں جانم جاں
یعنی تمہیں آزاد کریں گے جانے کیا کچھ ٹھیری تھی
جب تعمیر خواب نہ ہو گی، آنکھوں کی دل بستی
میں خود کو بے بنیاد کریں گے جانے کیا کچھ ٹھیری تھی
جون ایلیاء (کتاب گویا)
No comments:
Post a Comment