ایثار پر مولا علی علیہ السلام کے اقوال
ایثار فضیلت اور احتکار ، مال کو روک کر رکھنا پستی ہے۔
دوسروں کو خود پر مقدم کرنا بہت بڑا احسان ہے۔
ایثار نیک لوگوں کی خصلت ہے۔
ایثار احسان کی انتہا ہے۔
ایثار سب سے بڑی سخاوت ہے۔
ایثار اعلیٰ ترین احسان ہے۔
ایثار سب سے بڑی نیک صفت ہے۔
ایثار بہت بڑی عبادت اور بہترین یا عظیم ترین بزرگی دسرداری ہے۔
ایثار بخشش کا اعلیٰ مرتبہ اور بلند ترین خصلت ہے۔
اپنے اوپر دوسروں کو مقدم کرنا بہترین احسان ہے اور ایمان کا اعلیٰ ترین مرتبہ ہے۔
ایثار نیک لوگوں کی عادت اور مخیر افراد کا شیوہ ہے۔
اعلی ترین سخاوت ایثار ہے۔
بہترین کرم ایثار ہے۔
ایثار کے ذریعے آزاد کو بھی غلام بنایا جاسکتا ہے۔
ایثار کے سبب کرم کے نام کا استحقاق پیدا ہو جاتا ہے، یعنی ایثار کرنے والے ہی کو کریم کہا جا سکتا ہے۔
اپنے اوپر دوسروں کو مقدم کر کے دوسروں کی کی گردن کے مالک بن جاؤ یعنی تم فرمانروا اور دوسرے فرماں بردار ہو جائیں گے۔
بہترین جواں مردی دوسروں کو خود پر مقدم کرتا ہے۔
جب دوسروں کو خود پر مقدم کیا جاتا ہے اس وقت کرم کرنے والوں کے جو ہر آشکار ہوتے ہیں۔
بزرگی و بلندی کی انتہا دوسروں کو اپنے اوپر ترجیح دینا ہے۔
بزرگی اور بڑے پن کے لیے ایثار کافی ہے۔
جو اپنے نفس پر دوسروں کو مقدم کرتا ہے، وہ جواں مردی کے کمال کو پہنچ گیا ہے۔
جو ایثار سے کام لیتا ہے وہ فضیلت کا مستحق ہو جاتا ہے۔ اسے فضیلت والا اور بڑا کہا جاتا ہے۔
جو تمہیں اپنے مال و متاع پر مقدم کرتا ہے، یا جس سے خلاصی مشکل ہو ، اس سے تمہیں نجات دلانے کے لیے خود کو مصیبت میں
ڈالتا ہے در حقیقت وہ تمہیں خود پر مقدم کرتا ہے۔
بہترین احسان دوسروں کو خود پر مقدم کرتا ہے۔
بہترین انتخاب ، خود کو ایثار سے سنوارتا ہے۔
بلندیاں، پاک دامنی اور ایثار سے بھی کمال تک پہنچتی ہیں
No comments:
Post a Comment