فرزند آدم علیہ السلام پر مولا علی علیہ السلام کے اقوال
امام نے انسان کی بے چارگی اور اس کی ناتوانی کے بارے میں فرمایا ہے ) بے چارہ انسان اجل ہے ۔ اسے نہیں معلوم کہ کب موت آئے گی۔ اچانک اجل آجاتی ہے اور یہ بڑی مشکل بات ہے۔ اس کی بیماریاں مخفی ہیں ۔ وہ نہیں جانتا کہ کس وقت بیمار پڑے گا۔ یک بارگی جتنا ہو جاتا ہے۔ اس کے عمل کو محفوظ کر لیا جاتا ہے۔ جو کام انجام دیتا ہے وہی خدا کی طرف سے حافظ خانہ میں پہنچادیا جاتا ہے۔ اسے مچھر تک اذیت پہنچاتا ہے۔ پسینہ اسے آلودہ کر دیتا ہے اور اسے گلے میں پھنس جانے والی چیز خواہ لعاب دائن ہی ہو ، اس کی جان لے لیتی ہے ۔ کیا ان باتوں کے باوجود فخر و تکبر کیا جا سکتا ہے؟
وائے ہو ابن آدم پر اسے کس چیز نے غافل بنا رکھا ہے اور کسی چیز نے اسے صحیح راستہ سے ہٹادیا ہے؟
وائے ہو انسان پر کہ وہ بھوک کا اسیر شکم سیری کا پچھاڑا ہوا۔ آدمیوں کی آماجگاہ اور مردوں کا جانشین ہے۔ یعنی وہ قابل رحم ہے۔ ہمیشہ بلاؤں کی زد میں رہتا ہے اور اس کا سب سے بڑا منصب یہ ہے کہ وہ دنیا سے اٹھ جانے والوں کا جانشین ہے
No comments:
Post a Comment