مرنے سے پہلے مر جاؤ مولانا روم کی اپنے مرید کو نصیحت
ایک سوداگر کے پاس بہت خوبصورت طوطا تھا جو پنجرے میں قید تھا۔ سوداگر اس طوطے سے بہت محبت کرتا تھا، لیکن طوطا آزاد ہونا چاہتا تھا۔ ایک دن سوداگر ایران کے سفر پر جانے لگا۔ اس نے گھر والوں اور طوطے سے پوچھا کہ وہ اس کے لیے کیا تحفہ لائے۔ جب اس نے طوطے سے پوچھا تو طوطے نے کہا میرے جنگل کے ساتھی طوطوں کو میرا پیغام پہنچانا کہ میں قید میں ہوں اور پوچھنا کہ میرے لیے کیا پیغام ہے؟ سوداگر ایران پہنچا اور ایک جنگل میں طوطوں کو دیکھ کر اپنے طوطے کا پیغام سنایا۔ یہ سن کر ایک طوطا اچانک کانپنے لگا، پھر درخت سے گر کر مر گیا۔ اسی طرح سارے طوطے گر کر مر گئے۔ سوداگر حیران ہوا، دل میں افسوس بھی ہوا کہ شاید اس نے کوئی غلط بات کہہ دی
جب سوداگر واپس آیا تو اس نے اپنے طوطے کو سارا واقعہ سنایا۔ یہ سنتے ہی اس کا طوطا بھی کانپنے لگا، اور اچانک پنجرے میں گر کر مر گیا ۔ سوداگر بہت غمگین ہوا، اس نے سوچا کہ میرا پیارا طوطا مر گیا۔ اس نے طوطے کو پنجرے سے نکال کر زمین پر رکھ دیا جیسے ہی طوطا باہر آیا، وہ فوراً زندہ ہو کر اڑ گیا ! سوداگر حیران رہ گیا اور پوچھا یہ کیا ہوا ؟ طوطے نے کہا ایران والے طوطوں نے مجھے پیغام بھیجا تھا۔ کہ اگر آزادی چاہتے ہو تو مرنے سے پہلے مر جاؤ یعنی اپنی خواہشات اور نفس کو مار دو تاکہ تم معرفت الٰہی کو پہچان سکو کیونکہ انسان اس وقت تک اپنے رب کو نہیں پہچان سکتا جب تک اپنے نفس کی خواہشات کو مار نہ دے

No comments:
Post a Comment